حاصل گھاٹ
اردو ادب کا ايک شاہکار ناول۔۔۔
ابھی پڑھيے
’حاصل گھاٹ‘ بانو قدسیہ کا ایک نۓ طرز کا ناول ہے جس میں کوئی کہانی یا پلاٹ نہیں ہے اور نہ اس میں ایک یا ایک سے زیادہ کرداروں کا تذکرہ ہے۔
’حاصل گھاٹ‘ لاشعور کی رو میں لکھا ہوا ناول بھی نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس شعور کی رو میں تحریر کیا گیا تین سو چھتیس صفحے کا ایک تفصیلی بیانیہ ہے جسے ہجرت کرنے والوں کے نام منسوب کیاگیا ہے۔
ناول میں ایک شخص اپنی بیٹی ارجمند سے ملنے امریکہ جاتا ہے جو خود ایک نرس ہے اور ا س کا خاوند ڈاکٹر ہے۔ وہ شخص سارا دن بالکونی میں بیٹھ کر اپنے ماضی کو یاد کرتا ہے اور امریکی زندگی کا جائزہ لیتا اور اس پر رائے زنی کرتا رہتا ہے جن کا ناول کی ساخت سے کوئی تعلق نہیں۔ آخر میں قصہ گو بھاری دل کے ساتھ پاکستان لوٹ جاتا ہے۔
اس قصہ گو شخص کی یادوں، خیالات، جائزوں اور تبصروں کے ملنے سے یہ ناول بنتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے بانو قدسیہ نے بہت سے چھوٹے چھوٹے مضامین یا اخباری کالم لکھے اور پھر ان کو جوڑ کر ایک ناول کا نام دے دیا۔
تاہم یہ جذباتی قسم کے مضامین اور تبصرے اور تقابلی جائزے ایسی شدت سے لکھے گۓ ہیں کہ تحریر میں دلچسپی پیدا کردیتے ہیں اور قاری کو ساڑھے تین سو صفحے پڑھوا دیتے ہیں۔ یہی بانو قدسیہ کی کامیابی ہے۔
یہ ناول ایسے لوگوں کو بے حد پسند آئے گا جو امریکی زندگی سے نالاں ہیں یا جدید مغربی طرز حیات کے مقابلہ میں بر صغیر کی روایتی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں۔
”حاصل گھاٹ“ پر لوگوں کی آرا:
banu qudsia is one of those writers who impressed me more. in the whole novel there is a condition of nostalgia. i liked utmost the” concept of taraki and falah”
By imran ali On December 27th, 2007 at 5:38 pmbeside i liked the concept of AZADI n LOVE
PROBLEMS OF MINORITIES in the america and many more its one of favorite books.
Now i am started i find it intersting
By AJMAL SHAHZAD On April 11th, 2008 at 1:15 pmآپکی راۓ: