لبيک

ممتاز مفتی خدا کے حضور ميں۔۔۔

ابھی پڑھيے

ممتاز مفتی کا ”لبیک“ منفرد حیثیت و اہمیت کا حامل ہے یہ ایک باغی شخص کی قلبی واردات ہے جو اسرار کھولنا چاہتا ہے ۔ پردہ اٹھانا چاہتا ہے ہر لمحہ قاری کو اپنا ہمنوا بنائے رکھتا ہے ۔ بقول ظہور احمد اعوان،

”مفتی ایک مہم جو کی طرح اپنی ذات کی تسخیری مہم پر رواں تھا۔ اس نے جگہ جگہ رسمی تصورات پر چوٹیں کی ہیں ۔ فرسودہ رسومات پر طنزکے تیر برسائے ہیں ۔ خارجی رسمیات سے آگے گزر کر داخلی اور روحانی دنیا میں جھانکنے کی کوشش بھی کی ہے۔

یہ سفر نامہ رپورتاژ کہلایا جا سکتا ہے کیونکہ خود مصنف نے اسے رپورتاژ کہا ہے ۔ رپورتاژ سے مراد ایسی تحریر ہے جس میں حقیقت کا بیان داخل اور خارج دونوں کے امتزاج سے ہوتا ہے۔ سفر نامے اور رپورتاژ میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سفر نامے میں سفر بنیادی شرط ہے جبکہ رپورتاژ میں روحانی ، ذہنی اور جذباتی سفر کی زیادہ اہمیت ہے۔

ممتاز مفتی نے اس سفر نامے کو رپورتاژ کہا ہے دیگر ناقدین نے بھی اس بات کی تائید کی ہے ڈاکٹر ظہور احمد اعوان اپنی کتاب ”داستان تاریخ رپوتاژ نگاری“ میں اسے رپورتاژ کی حیثیت میں شامل کیا ہے۔ جبکہ انور سید ید نے اسے سفر نامے کی حیثیت دی ہے۔ اس رپورتاژ میں خارج سے داخل اور داخل سے خارج کا سفر ملتا ہے۔

”لبيک“ پر لوگوں کی آرا:

the best

My opinion is not posible without reading book.

ابھی پڑھیے کے لنک میں تو کوئی اور کتاب ہے؟

آپکی راۓ: